نئی دہلی، 8 ؍جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )وزیرمملکت برائے امور خارجہ وی کے سنگھ نے آج کہا کہ ہندوستان اور آسیان ممالک کو دہشت گردی کے مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس کو تجارت اور کاروبار میں خلل ڈالنے سے روکا جا سکے۔انہوں نے ایسوچیم کی طرف سے یہاں منعقد پانچویں ہندوستان -آسیان اقتصادی فورم میں کہا،ایسا اس لیے کیونکہ دہشت گردانہ سرگرمیوں کی وجہ سے ہمارے سامنے کوئی رکاوٹ کھڑی نہ ہو۔انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کی کوئی سرحد، رنگ، جنس یا مذہب نہیں ہوتا، اس لیے ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہم اسے اپنے علاقے سے دور رکھ کر اپنے علاقے میں خوشحالی لائیں۔اس کثیر ملکی گروپ کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کے آئندہ سلور جبلی کا ذکر کرتے ہوئے سنگھ نے کہا کہ بی جے پی حکومت کی طرف سے معیشت کی تخلیقی انجینئرنگ کی وجہ سے کچھ بہتر ہونے والا ہے۔امن کو کسی بھی کاروبار یا تجارت کے ہموار طریقہ سے کام کرنے کے لیے لازمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی ایک چیلنج ہے جس پر ہندوستان اور آسیان کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔قابل ذکرہے کہ آسیان یعنی جنوبی مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم 10 ممالک کا گروپ ہے۔ہندوستان کا آسیان کے ساتھ آزادانہ تجارتی معاہدہ ہے۔اس کے اراکین میں برونئی، کمبوڈیا، انڈونیشیا، ملیشیا، میانمار، سنگاپور، تھائی لینڈ، فلپائن، لاؤس اور ویتنام شامل ہیں۔ہندوستان میں ویت نام کے سفیر تون سنہ تھانہ نے اس پروگرام میں کہا کہ ہندوستان اور چین آسیان کے اہم ممالک میں ہیں جیسے طیارے میں پنکھے ہوتے ہیں۔سنگھ نے اپنی تقریر میں شمال مشرق کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور اسے آسیان ممالک کا دروازہ بتایا۔